take-your-tajweed-nazirah-test-identify-mistakes-get-personalized-correction
تلاوتِ قرآن محض ایک خوبصورت آواز کا نام نہیں بلکہ اللہ کے کلام کو ویسے ادا کرنے کا نام ہے جیسے نبی کریم ﷺ نے سکھایا۔ ہر حرف کے مخارج کا حق ادا کرنا، ہر حکم کو ٹھیک جگہ پر بجا لانا، کہیں غنہ، کہیں مد، کہیں ادغام، کہیں قلقلہ — یہی تجوید ہے۔ قرآن کو بغیر تجوید کے پڑھنے سے معنی بدل جاتے ہیں، الفاظ کا تاثر تبدیل ہو جاتا ہے اور اصل رسالت کا حق ادا نہیں ہو پاتا۔ اسی لیے علماء نے فرمایا: "من لم یجود القرآن آثم" یعنی جو قرآن کی تلاوت میں تجوید کا خیال نہ رکھے وہ گناہگار ہے، کیونکہ غلط پڑھنے سے معانی میں بگاڑ آتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آج کے تیز رفتار دور میں جہاں لوگ ملازمت، گھر، تعلیم اور ذمہ داریوں میں مصروف ہیں، کیا ہر فرد باقاعدہ کورس کر پاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ نہیں۔ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ قرآن درست پڑھیں، مگر انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کی تلاوت میں غلطی کہاں ہے۔ کوئی انہیں بتانے والا نہیں ہوتا، یا وقت نہیں ملتا، یا کہیں جانے میں جھجھک محسوس ہوتی ہے۔ ایسے میں وہ سال ہا سال تک غلطی پر قائم رہتے ہیں، اور تلاوت کو درست کرنے کا موقع ضائع ہو جاتا ہے۔
اسی ضرورت کو سامنے رکھ کر قرآن فیملی کلب نے تجوید و ناظرہ ٹیسٹنگ سسٹم پیش کیا — ایک انوکھا حل، جس میں پہلے مکمل کورس نہیں کروایا جاتا، بلکہ پہلا مرحلہ ٹیسٹ ہوتا ہے۔ آپ اپنے پسندیدہ وقت میں آن لائن ٹیسٹ دیتے ہیں، استاد آپ کی تلاوت سنتا ہے، غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے، پھر فیڈبیک رپورٹ تیار ہوتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ کہاں کمی ہے اور کس حصے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد صرف انہی موضوعات کی کلاسیں کروائی جاتی ہیں جہاں کمزوریاں ہوں — یوں وقت بھی بچتا ہے اور محنت بھی سیدھی سمت میں ہوتی ہے۔
یہ نظام سیکھنے کے جدید اصولوں پر مبنی ہے:
پہلے غلطی کی شناخت✓
پھر Targeted اصلاح✓
بار بار مشق اور دوبارہ جائزہ✓
اور آخر میں پیشہ ورانہ سطح کا سرٹیفکیٹ✓
کئی لوگوں کو یہ خوف ہوتا ہے کہ وہ استاد کے سامنے غلط پڑھیں گے تو شرمندگی ہوگی۔ لیکن قرآن فیملی کلب LMS میں عزتِ نفس کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ کلاسیں ون-ٹو-ون ہوتی ہیں، گھر بیٹھے، بغیر کیمرہ لازمی کیے، آپ اپنی ریکارڈنگ اور ٹیسٹ سے سیکھتے ہیں، اور تنقید نہیں — صرف رہنمائی ملتی ہے۔ یہی نرمی اور اعتماد سیکھنے کو آسان بنا دیتا ہے۔
والدین کے لیے بھی یہ نظام مثالی ہے — بچوں کا ٹیسٹ ہوتا ہے، غلطیوں کی رپورٹ ہاتھ میں آتی ہے، پھر انہی نکات پر سیکھا جاتا ہے۔ نہ استاد بدلتے، نہ سبق ادھورا رہتا، نہ وقت برباد ہوتا۔ بچے اپنی رفتار سے سیکھتے ہیں اور مکمل ہونے پر سرٹیفکیٹ ان کی حوصلہ افزائی بنتا ہے۔
یہ سسٹم ان طلبہ و طالبات کے لیے بھی بہترین ہے جنہوں نے ماضی میں قرآن پڑھا تھا مگر وقت کے ساتھ ہلکی ہلکی غلطیاں شامل ہو گئیں۔ وہ چند ہی کلاسوں میں تلاوت کو پھر سے سنوار لیتے ہیں۔ اساتذہ بتاتے ہیں: “آپ کے لیے کون سا مخارج کمزور ہے؟ کون سا حکم زیادہ مشکل ہے؟ کہاں بار بار غلطی ہوتی ہے؟” — جب کمزوری سامنے ہوتی ہے تو اسے دور کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
اور اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سیکھنا نتیجہ پر مبنی ہے — یعنی:
پیسے پورے کورس کے نہیں، صرف جتنی کلاسیں لیں اتنی فیس
کوئی طویل معاہدہ نہیں، کوئی غیر ضروری اخراجات نہیں۔
آخر میں جب ٹیسٹ دوبارہ لیا جاتا ہے اور کارکردگی واضح طور پر بہتر ہوتی ہے، تو طالب علم کو سرٹیفکیٹ آف تجوید پروفیشنسی دیا جاتا ہے — جسے اداروں، مدارس اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت محض عبادت نہیں بلکہ تعلق ہے — اور جب انسان اسے درست پڑھتا ہے تو دل پر عجیب سکون اترتا ہے، نماز میں خشوع بڑھ جاتا ہے، اور زندگی میں ایک نور، ایک تازگی، ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔ اور یہی اصل مقصد ہے — اللہ کے کلام کو اس کے شایانِ شان پڑھنا، سمجھنا اور دل میں اتارنا۔
Interested in this topic? We recommend reading these posts.
Reply to Comment